سید آل احمد ۔۔۔ جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے

جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے
جب بھی آتی ہے تری یاد رُلا دیتی ہے

بیکراں وقت کی اس کوکھ میں پلتی ہوئی سوچ
اک نئی صبح کی آمد کا پتہ دیتی ہے

سوچتا ہوں کہ کہیں تیرے تعاقب میں نہ ہو
وہ اذیت جو مری نیند اُڑا دیتی ہے

تیری تصویر مرے گھر میں جو آویزاں ہے
خواب کو وہم کی تعبیر دکھا دیتی ہے

غرقِ گردابِ مصائب مجھے کرنے والے!
موجۂ کاہشِ جاں تجھ کو دُعا دیتی ہے

ذہن آسیب زدہ سوچ کا پتھر ہے تو کیا
خواہشِ زیست تو کہسار ہلا دیتی ہے

اتنا لوٹا ہے گھنی چھاؤں نے اک عمر مجھے
اب تو سائے کی بشارت بھی ڈرا دیتی ہے

کوئی پتھر ہو‘ خدا ہو کہ فرشتہ احمدؔ
اپنی صحبت اُسے انسان بنا دیتی ہے

Related posts

Leave a Comment